21 اکتوبر 2026 - 11:51
2 | محمد بن سلمان کے زوال کی کہانی، دی اکانومسٹ کی زبانی

یمنی مقاومت نے بن سلمان کو ناکوں چنے چبوا دیئے/ جنگ کی طوالت سعودی معیشت کے لئے تباہ کن / محمد بن سلمان کو امید تھی کہ 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی اس خطرے کو قابو میں رکھے گی اور یمنی اس دھوکے میں آئیں گے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔ تاہم، اس موسم گرما سے ـ ایران کے ساتھ امریکہ کے تنازع میں وسعت آنے، بالآخر خود ہی صنعاء کے ہوائی اڈے پر حملے کا حکم دیا، جس سے اس کا اپنا ہی خواب چکنا چور ہو گیا؛ [۔۔۔]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ محمد بن سلمان کو امید تھی کہ 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی اس خطرے کو قابو میں رکھے گی [اور یمنی اس دھوکے میں آئیں گے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے]۔ تاہم، اس موسم گرما سے ـ ایران کے ساتھ امریکہ کے تنازع میں وسعت آنے کے بعد ـ یہ جنگ بندی بتدریج ٹوٹتی چلی گئی۔ [اور بالآخر، اس نے خود ہی صنعاء کے ہوائی اڈے پر حملے کا حکم دیا، جس سے اس کا اپنا ہی خواب چکنا چور ہو گیا؛ اور اس کے جواب میں انصار اللہ نے اپنی دفاعی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں؛] اور آج یمن کے وسیع علاقے اس وقت "انصار اللہ" مقاومتی تحریک کے زیرِ کنٹرول ہیں، جو سعودی عرب کو شدید ضربیں پہنچانے میں کامیاب رہی ہے۔

سعودی ولی عہد کے قریبی حلقوں کے مطابق، سعودی بادشاہت کو اب صرف ناپسندیدہ راستوں کا سامنا ہے کہ یا تو وہ اپنی زمینی افواج کو ایک خونریز جنگ میں جھونک دے؛ یا پھر فضائی حملے جاری رکھے، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ کاروائیاں پھر بھی لاحاصل رہیں۔

ایک اور ممکنہ صورتحال یہ ہے کہ اسے کسی ایسے معاہدے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑے جو انصار اللہ کے اقتدار کو مستحکم کر دے؛ جس سے یمن کی حکومت اور وسائل پر قبضہ کرنے کا محمد بن سلمان کا خواب ہمیشہ کے لئے برباد ہو جائے گا؛ لیکن شاید یہی راستہ بن سلمان کے لئے سب سے زیادہ آسان اور ممکن ہو۔

جنگ کی طوالت بن سلمان کے معاشی ایجنڈے کو پٹڑی سے اتار رہی ہے

طویل ہوتی ہوئی جنگ محمد بن سلمان کے معاشی منصوبے کو پٹڑی سے اتار رہی ہے؛ ایک ایسا منصوبہ جو 2026 سے کافی عرصہ پہلے ہی نمایاں طور پر سست پڑ چکا تھا:

- سرکاری مالیات پر دباؤ کے باعث بڑے منصوبوں کو ایک کے بعد ایک ترک کیا جا رہا ہے۔

- سعودی عرب میں، اجرتوں میں اضافے کی شرح مہنگائی کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔

- مزید برآں، بادشاہی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا سالانہ حجم اس وقت ولی عہد کے 100 ارب ڈالر کے ہدف کے صرف ایک تہائی کے برابر ہے۔

ایک سال قبل، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پیش گوئی کی تھی کہ 2026 میں سعودی معیشت تقریباً 4 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی؛ تاہم، اب اس کا اندازہ ہے کہ سعودی معیشت ترقی نہیں کرے گی بلکہ 3.3 فیصد تک سکڑاؤ (contraction) سے دوچار ہوگی اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا 2027 تک معیشت دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گی یا نہیں۔

حتمی طور پر، اس کا انحصار مغربی ایشیا میں امن کے قیام پر ہے، ایک ایسا امکان جس کا دارومدار بڑی حد تک ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں پر ہے!

ٹرمپ پر ریاض کے دی گئی اربوں کھربوں کی رشوت لاحاصل رہے

ٹرمپ انتظامیہ پر ریاض کا اعتماد کم ہو گیا ہے؛ بن سلمان کو گمان تھا کہ اسے ٹرمپ پر اثر و رسوخ حاصل ہے:

- محمد بن سلمان نے امریکہ میں غیر معمولی (اور غیر حقیقت پسندانہ) پیمانے پر سرمایہ کاری کا وعدہ کرکے ٹرمپ کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی۔

- اس نے ٹرمپ خاندان کے افراد کے ساتھ متنازعہ معاہدے بھی کئے؛ جن میں ٹرمپ کی ملکیت والے گولف کورسز پر سعودی فنڈز سے چلنے والے ٹورنامنٹس کے انعقاد کے لئے ادائیگی، اور اس کے داماد، جیرڈ کشنر کی ملکیت والی ایک فرم میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل تھی۔

- بن سلمان کی ان تمام کوششوں میں سے کوئی بھی ٹرمپ کو یمن میں سعودی عرب کی تباہ کن جنگ میں شامل کرنے پر آمادہ نہ کر سکی۔

- ایک بااثر سعودی شخصیت نے 'دی اکانومسٹ' سے کہا: "ٹرمپ زیادہ عرصے تک کسی کا وفادار نہیں رہتا۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: شیدا فرہادیان پور

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha